2 فروری 2015 - 07:00
سعودی عرب: قیدیوں کی رہائی میں امتیازی برتاؤ

سعودی عرب کے محکمہ جیل خانہ جات کے ترجمان نے کہا ہے کہ آئندہ چنددنوں میں پچاس فیصد سے زيادہ قیدیوں کو سعودی جیلوں سے رہا کردیا جائے گا-

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے محکمہ جیل خانہ جات کے ترجمان نے کہا ہے کہ آئندہ چنددنوں میں پچاس فیصد سے زيادہ  قیدیوں کو سعودی جیلوں سے رہا کردیا جائے گا- ایوب النحیت نے سعودی اخبار الاقتصادیہ کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ اس ملک کے پچاس فیصد سے زائد قیدیوں کی سزائیں سعودی بادشاہ کے فرمان پرمعاف کردی گئی ہیں اور ان قیدیوں کی رہائی کا عمل جلد ہی شروع ہوجائے گا- سعودی عرب کے نئے فرمانروا نے اقتدار ميں آنے کے ابتدائی دنوں میں ہی سیکورٹی اور انتظامی عہدوں پر بڑے پیمانے پررد وبدل کرنے کے ساتھ ساتھ  قیدیوں کی رہائی کا بھی حکم جاری کیا ہے۔ یہ وہ حکم ہے جسے سعودی عرب کے ذرائع ابلاغ اس ملک کی تاریخ کا ایک اہم واقعہ قرار دے رہے ہیں۔ سعودی بادشاہ سلمان کے اس نئے فرمان کا سعودی میڈیا میں بڑے  پیمانے پر چرچا ایک ایسے وقت کیا جارہاہے جب اس حکم کے تحت صرف وہی قیدی رہائی پائيں گے جو مالی مسائل کی وجہ سے جیل میں ڈالے گئے ہيں اوریا پھر جج کی نگاہ میں  کسی معمولی جرم کے مرتکب ہوئے ہيں۔ سعودی ذرائع ابلاغ ایسے وقت سعودی فرمانروا کی طرف سے قیدیوں کو معاف کئےجانےکے حکم کا ڈھنڈھورا پیٹ رہے ہیں سعودی عرب کے اندر اور بیرون ملک انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق سعودی جیلوں میں تیس ہزار سے زائد سیاسی قیدی موجودہیں- سعودی فرمانروا نے جن قیدیوں کی معافی کا حکم جاری کیا ہے ان میں سعودی عرب کی معروف مذہبی شخصیت شیخ نمر باقر النمر شامل نہیں ہیں۔ سعودی عرب کے ممتاز شیعہ عالم دین شیخ باقر نمر کو صرف حق گوئی اور شیعہ مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک روا رکھے جانے کے حکومتی رویّوں کے خلاف آواز بلند کرنے جرم میں جیل میں ڈالا گیا ہے- یاد رہے کہ شیخ نمر کو ایک غیر منصفانہ فیصلے ميں پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے۔

.......

/169